Back to Current Issue
ISSN No. 3139-3284
An International, Multidisciplinary, Multilingual, Open-Access, Double-Blind Peer-Reviewed Research Journal
Article Information
Journal: Shibli National Academic Journal (SNAJ)
Volume: Volume 1 | Issue: Issue 1
ملا وجہی شخصیت سازی شناسر ـ پروفیسر
Abstract
فارسی ادب کے وسیع دامن نے ایسے بیشمار نابغہ روزگار شعراء کو خلعت وجود بخشا ہے جن کی خدمات نے نہ صرف صدیوں تک شاہی درباروں کو مزین کیا ہے بلکہ دنیائے ادب میں اپنی ایک منفرد شناخت بھی قائم کی ہے ۔ یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ ابتدائی عہد میں ان شعراء کی زبانیں پہلوی ، سغدی، آذری ، دری اور فارسی تھیں ه دانی عہد میں ان شعراء کی رہائیں ری دری اور فارسی نہیں لیکن ان شعراء کو جس زبان میں شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی اس کی شناخت ادبی دنیا میں صرف فارسی کے نام سے ہی ہوئی ہے۔ عظیم ہندوستان میں فارسی زبان وادب کی روایت ایک ہزار سال قدیم ہے جس کی ابتداء کی تاریخ سلطان محمود غزنوی متوفی ۴۲۱ ه مطابق ۱۰۳۰ء کی بندوستان آمد ۴۱۲ه بمطابق ۱۰۲۱ء اور سنده ، ملتان پنجاب محمود غزنوی ۴۲۱ه ۱۰۳۰ء کی ہندوستان آمد ۴۱۲ه ۱۰۲۱ء ، ملتان پنجاب میرٹھ اور نواح دبلی، مضافات دہلی کے علاقوں کو فتح کرنے کے بعد رقم کی گئی تھی۔ ہندستان کی شمالی ریاستوں پر آل محمود کی حکمرانی ایک اندازے کے مطابق ڈیڑھ سو سال تک رہی ہے۔اس مدت میں فارسی زبان و ادب کو فروغ حاصل ہوا اور کئی نامور فارسی علماء و شعراء نے بھی شہرت حاصل کی۔جن کی فہرست طویل ہے کچھ اہم شعراء کے نام اس طرح سے ہیں مسعود سعد لابوری ۴۳۸ه پیدائش ۵۱۵۰ه وفات، سلطان بحرام بن مسعود غزنوی اس مرح سے ہیں مسعود مند دبوری بحر بن مسعو وفات ۵۴۷ھ کے درباری شاعر ابو سعيد سعادت بن مسعود سعد، مختار غزنوی وفات ۵۶۶ه یا ۵۶۹ه ، شہاب الدولة والدين محمد بن رشيد الرئيس وفات ۳۹۸ھ) - دبلی کے بالمقابل دکن کی سرزمین پر فارسی زبان وادب کی شروعات بعد میں ہوئی کیوں کہ دہلی میں فارسی سلاطین ، امراء رئو ساء ، علماء اور شعراء کی آمد پہلے ہوئی تھی بعد میں میں ، امراء رئو ساء ، شعراء آمد پہلے ساتویں صدی بجری میں دہلی کے سلطان علاء الدین خلجی نے جب اپنی حکومت مستحکم کرلی تو اس نے دکن کی سمت قافلہ کے ساتھ قدم بڑھایا اوردکن میں خیمہ زن ہوئے ۔ انہیں کے ساتھ دکن کی سرزمین پر فارسی ادبیات طرز زیست اور نشست و برخاست اور علوم و فنون نے بھی دکن میں قدم رکھا اور ارتقائی منا زل طے کیں۔ علاء الدین نے مہاراشٹر کے یادو خاندان پر حملہ کیا اور فتوحات کے بعد زرو جواہرات سے مالا مال ہوئے۔ چنانچہ اس نے اپنی حکومت کو وسیع تر کرنے کی ٹھانی اور سرزمین دکن پر منظم طریقے سے حملہ آور ہوا
Full Text PDF
Preview not loading? Use the buttons below to open or download the PDF directly.